❓سوال:
کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اپنی والدہ کی طرف سے حج کروں؟ کیونکہ میری والدہ بیمار ہیں اور لاٹھی کے بغیر نہیں چل سکتیں، ان کی نظر بھی کمزور ہے، وہ مصر میں مقیم ہیں اور کافی تکلیف (ضعف) میں ہیں۔ تو کیا ایسی صورت میں میرے لیے ان کی طرف سے حج کرنا جائز ہے؟
🌿جواب:
جی ہاں، اس میں کوئی حرج نہیں کہ آپ ان کی طرف سے حج کریں، بشرطیکہ وہ اپنی کمزوری، بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے حج کرنے کی طاقت نہ رکھتی ہوں۔
نبی کریم ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور عرض کی: “اے اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ سواری پر بیٹھ نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “ان کی طرف سے حج کرو۔”
اسی طرح ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: “اے اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ نہ حج کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ سفر (کوچ) کرنے کی، کیا میں ان کی طرف سے حج اور عمرہ کر لوں؟” تو آپ ﷺ نے فرمایا: “اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو۔”
پس اگر وہ (آپ کی والدہ یا متعلقہ خاتون) عاجز ہیں، تو آپ ان کی طرف سے حج اور عمرہ کریں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ ان کے بڑھاپے اور معذوری کی وجہ سے آپ کا یہ عمل درست ہے۔ جی ہاں۔
📚 فتاوى ابن باز رحمه الله
🎙️نور على الدرب
[حكم حج الابن عن أمه المريضة العاجزة]
✍️ أبوالحسن خالد محمود عبد الرشید راؤ

Leave a comment