عورت اور نابالغ کی امامت

❓ کیا عورت عورتوں کو تراویح پڑھا سکتی ہے؟
🎙️ جی ہاں، خواتین کی جماعت کے حوالے سے فقہاء کے درمیان مختلف آراء ہیں، لیکن راجح قول کے مطابق عورت عورتوں کی امامت کر سکتی ہے، بشرطیکہ کچھ آداب کا خیال رکھا جائے:
– صف میں کھڑے ہونا: مرد امام کے برعکس، جو عورت امامت کر رہی ہو وہ مقتدی عورتوں سے آگے علیحدہ نہیں کھڑی ہوگی، بلکہ پہلی صف کے درمیان میں ان کے ساتھ ہی کھڑی ہوگی۔
–  جہر (بلند آواز): اگر آس پاس غیر محرم مردوں تک آواز پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو تو وہ بلند آواز سے قرات کر سکتی ہے۔
– پسندیدہ عمل: احناف کے نزدیک عورتوں کی الگ سے جماعت بنانا “مکروہِ تنزیہی” (ناپسندیدہ) ہے اور ان کے لیے تنہا نماز پڑھنا بہتر ہے، لیکن دیگر مکاتبِ فکر (شوافع اور حنابلہ) کے نزدیک یہ مستحب اور جائز ہے۔ اور یہی بات راجح ہے۔
– احناف کے ہاں بھی اگر خواتین سیکھنے کی غرض سے یا ذوقِ عبادت کے لیے ایسا کریں تو اس کی گنجائش موجود ہے۔
❓ کیا نابالغ بچہ تراویح کی امامت کروا سکتا ہے؟
🎙️اس معاملے میں گیارہ سالہ بچے کی امامت کے حوالے سے فقہی تفصیل یہ ہے.
– جمہور فقہاء (احناف، مالکیہ، حنابلہ): ان کے نزدیک نابالغ بچہ (خواہ وہ کتنا ہی اچھا قاری کیوں نہ ہو) فرض نماز ہو یا تراویح، بالغ افراد کی امامت نہیں کروا سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ بچے کی نماز “نفل” ہوتی ہے جبکہ بالغ کی “سنتِ مؤکدہ” یا “فرض”، اور مضبوط نماز والے کے پیچھے کمزور نماز والے کی اقتداء درست نہیں مانی جاتی۔
– شافعی مسلک: امام شافعیؒ کے نزدیک اگر بچہ “ممیز” ہو (یعنی سمجھدار ہو، پاکی ناپاکی اور نماز کے ارکان کو جانتا ہو) تو وہ بالغوں کی امامت کروا سکتا ہے۔

والد کا یہ کہنا کہ “آخری دو کی اجازت ہے” شرعی طور پر کسی خاص دلیل پر مبنی نہیں ہے؛ حکم پوری تراویح کے لیے ایک ہی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ:
خواتین اپنی جماعت کر سکتی ہیں۔
اور  نابالغ بچے کے پیچھے بالغ مردوں کی تراویح اگرچہ احناف کے نزدیک درست نہیں۔ مگر راجح قول یہی ہے کہ اگر بچہ “ممیز” ہو (یعنی سمجھدار ہو، پاکی ناپاکی اور نماز کے ارکان کو جانتا ہو) تو وہ بالغوں کی امامت کروا سکتا ہے۔

والله أعلم بالصواب
✍️ أبوالحسن خالد محمود عبد الرشید راؤ

Leave a comment