سورت ملک کی عمومی فضیلت اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

❓١-کیا سورۃ الملک کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے؟
❓۲. کیا “سونے سے پہلے” کا وقت حدیث سے ثابت ہے؟
🌿
🎙️یہ کہنا کہ “وقت کا تعین کرنا درست نہیں” یا “یہ حدیث میں نہیں ہے” درست نہیں ہے۔
متعدد احادیث میں اس سورت کو رات کے وقت، خاص طور پر سونے سے پہلے پڑھنے کا ذکر ملتا ہے:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
“أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ: الم تَنْزِيلُ، وَتَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ.”
“نبی کریم ﷺ اس وقت تک نہیں سوتے تھے جب تک ‘الم تنزیل’ (سورۃ السجدہ) اور ‘تبارک الذی بیدہ الملک’ (سورۃ الملک) نہ پڑھ لیتے۔” (جامع ترمذی: 2892، اسے امام البانیؒ نے صحیح کہا ہے)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” مَنْ قَرَأَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ كُلَّ لَيْلَةٍ مَنَعَهُ اللَّهُ بِهَا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَكُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ نُسَمِّيهَا الْمَانِعَةَ…”
    “جو شخص ہر رات ‘تبارک الذی بیدہ الملک’ پڑھتا ہے، اللہ عزوجل اس کی برکت سے اسے عذابِ قبر سے محفوظ رکھتا ہے۔”
(سنن نسائی الکبریٰ، حاکم؛ امام حاکم اور علامہ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)
  
| اصل فضیلت |  (بغیر وقت کی قید کے)
سورۃ الملک کی تلاوت عذابِ قبر سے رکاوٹ (مانِعہ) ہے،
چاہے دن میں پڑھی جائے یا رات میں۔
> “عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِنَّ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ثَلَاثُونَ آيَةً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ، وَهِيَ سُورَةُ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ.”

ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “قرآن مجید میں ایک سورت ہے جس کی تیس آیات ہیں، اس نے ایک شخص کی شفاعت کی یہاں تک کہ اسے بخش دیا گیا، اور وہ سورت ‘تبارک الذی بیدہ الملک’ ہے۔”
حوالہ و لنک:
* جامع ترمذی: 2891، سنن ابی داؤد: 1400 (علامہ البانی نے اسے صحیح کہا)۔


| سنتِ نبوی ﷺ یہ ہے کہ آپ ﷺ کا مستقل معمول اسے رات کو سونے سے پہلے پڑھنے کا تھا، لہٰذا اسے رات کے وقت پڑھنا سنت سے زیادہ قریب اور افضل ہے۔
🔗بہرحال یہ بات درست ہے کہ دن میں پڑھنے سے بھی انسان فضیلت سے محروم نہیں رہتا۔
لیکن یہ کہنا کہ “سونے سے پہلے پڑھنا حدیث میں نہیں” غلط فہمی ہے۔
صحیح احادیث میں آپ ﷺ کا عمل اسے رات کو سونے سے پہلے پڑھنے کا ہی ثابت ہے۔
لہٰذا، افضل یہی ہے کہ اسے رات ہی کو پڑھا جائے تاکہ سنتِ نبوی کی پیروی بھی ہو جائے اور فضیلت بھی حاصل ہو۔
اگر کوئی مصروفیت کی وجہ سے رات کو نہ پڑھ سکے تو دن میں پڑھ لینا بھی باعثِ خیر و برکت ہے۔

والله أعلم بالصواب

✍️ أبوالحسن خالد عبد الرشید راؤ

Leave a comment