“سبعہ احرف” اور “قرأت سبعہ” میں فرق

*السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!استاد محترم سبع احرف کے بارے میں رہنمائی فرما دیجئے کہ ان کی حقیقت کیا ہے ؟*
🔖
الجواب 🌿
*”سبعة أحرف” اور “قرات سبعہ” میں فرق*
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا:👇🏻
❓سائل: “سبعہ احرف” (سات حروف) کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس سے مراد سات لغات (لہجے) ہیں؟
ج🌿شیخ ابن عثیمینؒ:
جی ہاں، اس سے مراد وہ لہجے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عرب بولتے تھے۔ انسان کے لیے اپنا لہجہ بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے، اس کے لیے بہت زیادہ مشق (تمرين) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ چیز لوگوں کو قرآن سمجھنے سے روک سکتی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے شروع میں لوگوں کے لیے وسعت پیدا فرمائی (کہ وہ اپنے لہجے میں پڑھ سکیں)۔ پھر جب قریش کی زبان مستحکم ہوگئی، تو وہی قرآن کی بنیادی اور سرکاری زبان بن گئی۔
❓سائل: کیا یہ سب عربی میں ہی تھے؟
🌿شیخ ابن عثیمینؒ: جی ہاں، یہ سب عربی ہی تھے۔
❓سائل: تو پھر ان کے درمیان فرق کیا تھا؟
🌿شیخ ابن عثیمینؒ: جیسے اب آپ لوگ حجاز میں ہیں، اور یہاں قصیم ہے، یا مشرقی علاقہ ہے؛ کیا سب کے لہجے ایک جیسے ہیں؟ نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں “یا رَجُل” (اے مرد) اور بعض اسے “یا رَیُل” (جیم کو یا سے بدل کر) بولتے ہیں۔ اب اگر کوئی ایسا شخص کہے “وَجَاءَ رَیُّکَ” (تمہارا رب آیا)، تو اس کے لیے “وَجَاءَ رَبُّکَ” کہنا بہت مشکل ہے، اسے مشق کی ضرورت ہوگی۔ اسی طرح بعض غیر عرب (عجمی) لوگ “محمد” کا لفظ ادا نہیں کر پاتے اور “ح” کی جگہ “ہ” یا “خ” بولتے ہیں۔
● چنانچہ شروع میں یہ اللہ کی طرف سے آسانی تھی، کیونکہ اگر انہیں صرف قریش کے لہجے پر مجبور کیا جاتا تو انہیں بہت مشق کرنی پڑتی۔ اسلام کی طرف راغب کرنے اور آسانی پیدا کرنے کے لیے قرآن کو سات حروف پر نازل کیا گیا۔

*قراءاتِ سبعہ اور سبعہ احرف میں فرق*
شیخ ابن عثیمینؒ اکثر اس بات کی وضاحت کرتے تھے کہ بہت سے لوگ “سات قراءات” (جیسے قراءتِ عاصم، نافع وغیرہ) کو ہی “سبعہ احرف” سمجھ لیتے ہیں، جبکہ یہ درست نہیں ہے۔
*سبعہ احرف* :
یہ وہ سات انداز یا لغات ہیں جن پر قرآن نازل ہوا (جیسا کہ ویڈیو میں بتایا گیا)۔
*قراءاتِ سبعہ:*
یہ وہ سات مشہور طریقے ہیں جن کے ذریعے ان احرف کو پڑھنا ہم تک پہنچا ہے۔ یہ قراءات ان ہی سات حروف کا حصہ ہیں۔
*حضرت عثمانؓ کا فیصلہ اور سبعہ احرف*
جب مسلمانوں کے درمیان قراءت کے حوالے سے اختلاف بڑھنے لگا، تو حضرت عثمان غنیؓ نے تمام مسلمانوں کو ایک “رسم الخط” (لکھنے کے طریقے) پر جمع کر دیا۔
– انہوں نے قرآن کو قریش کے لہجے کے مطابق لکھوایا۔
–  تاہم، اس رسم الخط میں اتنی گنجائش رکھی گئی کہ وہ دیگر “احرف” (لہجے) جو قریش کے رسم الخط میں سما سکتے تھے، وہ باقی رہے۔
–  جو احرف (لہجے) رسمِ عثمانی کے خلاف تھے، انہیں امت کی وحدت کی خاطر ترک کر دیا گیا کیونکہ اب ان کی ضرورت (آسانی کے لیے) باقی نہیں رہی تھی۔
*فوائد*
شیخؒ فرماتے ہیں کہ ان حروف کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مختلف قراءات سے معنی میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً:
👈🏻 سورہ فاتحہ میں ایک قراءت “مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ” (قیامت کے دن کا مالک) ہے اور دوسری قراءت “مَلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ” (قیامت کے دن کا بادشاہ) ہے۔
یہ دونوں قراءات مل کر اللہ کی بادشاہت اور ملکیت کے تصور کو مکمل کرتی ہیں۔
والله أعلم بالصواب

✍️ أبوالحسن خالد عبد الرشید راؤ

Leave a comment