” سلفِ صالحین کا عمل اسی پر رہا ہے کہ قیام (نمازِ تراویح) کی کوئی مخصوص حد مقرر نہیں ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے اپنے زمانے میں اہل مدینہ کو ایک طویل عرصے تک 36 رکعات پڑھتے ہوئے پایا۔ اور یہ اس صحیح روایت کی تائید کرتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آخر میں لوگوں کو 23 رکعات پر جمع کر دیا تھا۔ اور یہ روایت ‘شاذ’ ( ضعیف )نہیں ہے کیونکہ یہ 11 رکعات والی روایت کے خلاف نہیں ہے۔
بلکہ (ترتیب یوں تھی کہ) شروع میں 11 رکعات تھیں، پھر لوگوں کو 23 رکعات پر جمع کیا گیا۔
اہل مدینہ امام مالک رحمہ اللہ کے زمانے تک 36 رکعات ہی پڑھتے رہے۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے اہل مکہ کو ایک طویل مدت سے 20 رکعات پڑھتے ہوئے پایا، جس کے بعد وہ وتر پڑھتے تھے۔
پس یہ مدینہ اور مکہ کے سلفِ صالحین کا عمل رہا ہے، اور اسی پر علماء کا تسلسل اور اتفاق رہا ہے۔
[خلاصہ کلام فضیلة الشيخ سليمان الرحيلي حفظه الله مع تصرف يسير ]
اہم نکات:
1- تراویح یا تہجد کی رکعات کی کوئی سخت حد نہیں ہے، آپ اپنی ہمت کے مطابق زیادہ بھی پڑھ سکتے ہیں۔
2- تاریخی حوالہ: مکہ اور مدینہ میں 23 سے 36 رکعات تک پڑھی جاتی تھیں۔
3- اس مسئلے میں مختلف آراء کی گنجائش موجود ہے اور سلف کا عمل اس میں وسعت کی دلیل ہے۔
●
أبو الحسن خالد محمود عبد الرشید راؤ

Leave a comment