تابعی شاعر رحمہ اللہ کے اشعار


*مدینہ منورہ کی باپردہ خواتین کے متعلق*
🔖
*هُنَّ اللَّواتي في البُيوتِ جَواهِرٌ*
یہ وہ (خواتین) ہیں جو گھروں کے اندر چھپے ہوئے موتی اور جواہرات ہیں۔
*وَإِذا خَرَجْنَ إِلى الطَّريقِ خِيامُ*
اور جب یہ راستے پر نکلتی ہیں تو (اپنے حجاب کی بدولت) چلتے پھرتے خیموں کی مانند ہوتی ہیں۔
*بيضٌ نَّواعِمُِ ما هَمَمْنَ بِريبَةٍ*
وہ گورے رنگ والی نازک بدن ایسی ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی برائی یا شک والے کام کا ارادہ تک نہیں کیا
*كظِباءِ مَكَّةَ صَيْدُهُنَّ حَرامُ*
وہ مکہ کی ہرنیوں کی طرح (محفوظ) ہیں، جن کا شکار کرنا (ان پر بری نظر ڈالنا) حرام ہے۔

     يُحسَبنَ مِن لينِ الكَلامِ زَوانِيا
> وَيَصُدُّهُنَّ عَن الخَنا الإِسلامُ

ترجمہ: ان کی گفتگو کی نرمی اور مٹھاس کی وجہ سے (نادان لوگ) انہیں بدکار سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ اسلام (ان کی حیا اور دینداری) انہیں ہر قسم کی بے حیائی اور فحش کاموں سے روکے رکھتا ہے۔
🌿
یہ اشعار خواتین کی عفت، حیا اور حجاب کی خوبصورتی کو بیان کرتے ہیں، جہاں ان کے پردے کو ان کی حفاظت اور وقار کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
🔖
ان اشعار کے پیچھے کا پس منظر اور شاعرانہ پہلو کچھ یوں ہے:
*تشبیہ کی خوبصورتی:*
شاعر نے خواتین کے حجاب اور برقعے کو “خیموں” (خیام) سے تشبیہ دی ہے۔
یہ اس زمانے کی ایک بہت بڑی تعریفی علامت تھی، کیونکہ خیمہ ایک ایسی چیز ہے جو اندر موجود قیمتی چیز کو چھپا کر رکھتی ہے اور باہر کے طوفانوں یا نظروں سے بچاتی ہے۔
*مکہ کی ہرنیاں:*
اشعار میں عورتوں کو “ظباء مکہ” (مکہ کی ہرنیاں) کہا گیا ہے۔ یہ ایک بہت گہری تشبیہ ہے۔ مکہ کی حدود (حدودِ حرم) میں کسی بھی جانور کا شکار کرنا شریعت میں حرام ہے۔
شاعر کا مقصد یہ ہے کہ یہ خواتین اتنی پاکیزہ اور معزز ہیں کہ ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنا یا ان کے وقار کو ٹھیس پہنچانا ایسا ہی گناہ ہے جیسے حرم میں شکار کرنا۔
*عفت اور پاکیزگی:*
تیسرے مصرعے میں “بيض نواعم” کا مطلب ہے
شاعر یہاں ان خواتین کی تعریف کر رہا ہے جو فطری طور پر نرم مزاج اور شیریں سخن ہیں، لیکن ان کا کردار نہایت پاکیزہ ہے۔
وہ کہتا ہے کہ ان کی باتوں میں جو معصومیت اور نرمی ہے، اس سے کوئی غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتا ہے.
مگر حقیقت میں ان کا تقویٰ اور اسلام انہیں کسی بھی غلط قدم سے محفوظ رکھتا ہے۔

*خلاصہ یہ ہےکہ*
یہ اشعار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اسلام اور عرب معاشرے میں میں عورت کا حجاب اسے محدود نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک “مقدس قلعہ” یا “خیمہ” فراہم کرتا ہے جس کے اندر وہ ایک “موتی” کی طرح محفوظ رہتی ہے۔

*شاعر کا تعارف*
“عروہ بن یحییٰ (جن کا لقب اُذَینہ ہے) بن مالک بن حارث اللیثی۔
جلیل القدر تابعی ہیں جن سے امام مالک رحمہ اللہ نے اپنی موطأ میں احادیث بھی روایت کیا ہیں اور آپ کا شمار ثقات اہل حدیث میں ہوتا ہے۔
– غزل کے ایک ممتاز اور صفِ اول کے شاعر تھے۔
– آپ کا تعلق مدینہ منورہ سے تھا۔
–  اور آپ کا شمار فقہاء اور محدثین میں بھی ہوتا ہے۔
لیکن شاعری کا رنگ زیادہ غالب تھا۔”

✍️ أبوالحسن خالد محمود راؤ

Leave a comment