🌻 شریعت میں جو لزوم جماعت کا حکم ہے وہ دو ہیں :
💥 1- الجماعة ؛ بمعنی ما أنا عليه وأصحابي
🏝 يعنی وہ طریقہ و مسلک جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ۔
🌾 مطلب یہ کہ منہج اہل سنت سلف صالحین رضی اللہ عنہم ہی جماعت ہے ۔
⚡ اور اسی کے بارے میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ جماعت حق کی موافقت کو کہتے ہیں اگرچہ تم اکیلے ہی کیوں نہ ہو ۔
⚘ لہذا یہاں جماعت بمعنی مسلک و عقیدہ ہے اور اس کا مطلب کوئی تنظیم نہیں ہے اور نہ ہی تنظیم سازی ہے ۔ بلکہ یہ تو محض اتباع حق کا نام ہے ۔
لہذا جو شخص بھی کسی بھی اصول میں منہج سلف کر چھوڑ کر کسی بدعتی موقف اپنا مسلک بنائے گا وہ تفرقہ کا شکار ہے اور اہل سنت کا مخالف ہے ۔
💥 2- جماعة المسلمين ؛
یعنی امت مسلمہ بلاتفریق سنی و بدعتی ( کسی بھی ریاست کے ) سب مسلمانوں کا ایک حاکم کی اطاعت پر متحد ہو جانا ۔
🔴 لہذا ایک مسلمان کی تنظیم محض وہ اسلامی ریاست ہے جس میں وہ ایک حکمران کی امارت میں رہتا ہے ۔
🇵🇰 لہذا اسی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اہل پاکستان جماعت المسلمین ہیں جیساکہ اہل افغانستان و سعودیہ و امارات و مصر و الجزائر الغرض تمام اسلامی ممالک اپنی اپنی حدود میں جماعت المسلمین ہیں ۔
🚫 ان ریاستوں میں رہنے والا کوئی بھی مسلمان اگر اپنے مسلمان حاکم وقت کو چھوڑ کر کسی شیخ یا حضرت یا سیاست دان و مفکر کو اپنا امیر و لیڈر اور قائد سمجھتا ہے تو جماعت سے نکل چکا ہے اور اس حالت میں وہ اگر مر جاتا ہے تو اس کی موت دور جاہلیت کی موت ہے ۔
🤲 والعياذ بالله من الخذلان .
📖 اس ضمن میں ایک اور بات دھیان میں رکھنی چاہیے کہ
مسلمان حکمران خواہ نیک ہو یا بد دونوں ہی حالات میں وہ شرعی امیر ہے اگرچہ وہ کسی غیرشرعی طریقے سے حاکم مقرر ہوگیا ہو ۔
⚡ مگر ہرحال میں ضابطہ یہ ہے کہ اطاعت کسی بھی ایسے کام میں حرام ہے جو کہ اللہ کی نافرمانی ہو ۔
والله أعلم بالصواب.

Leave a comment