مصارف زکاة بمع مختصر تشریح



{ ۞ إِنَّمَا ٱلصَّدَقَـٰتُ لِلۡفُقَرَاۤءِ وَٱلۡمَسَـٰكِینِ وَٱلۡعَـٰمِلِینَ عَلَیۡهَا وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ وَفِی ٱلرِّقَابِ وَٱلۡغَـٰرِمِینَ وَفِی سَبِیلِ ٱللَّهِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِیلِۖ فَرِیضَةࣰ مِّنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ عَلِیمٌ حَكِیمࣱ }
[سُورَةُ التَّوۡبَةِ: ٦٠]

*ترجمہ:*
صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے۔ ( محمد جونا گڑھی رحمہ اللہ تعالٰی )

*صدقات سے مراد یہاں صدقات واجبہ یعنی زکٰوۃ ہے*

آیت کا آغاز إنَّمَا سے کیا گیا ہے جو قصر کے صیغوں میں سے ہے اور الصدقات میں لام تعریف جنس کے لیے ہے یعنی صدقات کی یہ جنس (زکوٰۃ) ان آٹھ قمسوں میں مقصور ہے جن کا ذکر آیت میں ہے ان کے علاوہ کسی اور مصرف پر زکوۃ کی رقم کا استعمال صحیح نہیں۔
✍️
ان مصارف ثمانیہ کی مختصر تفصیل حسب ذیل ہے۔
2-1 : { لِلۡفُقَرَاۤءِ وَٱلۡمَسَـٰكِینِ }
فقیر اور مسکین چونکہ قریب قریب ہیں ۔
اور ایک کا اطلاق دوسرے پر بھی ہوتا ہے یعنی فقیر کو مسکین اور مسکین کو فقیر کہہ لیا جاتا ہے۔
اس لئے ان کی الگ الگ تعریف میں خاصا اختلاف ہے۔
تاہم دونوں کے مفہوم میں یہ بات تو قطعی ہے کہ جو حاجت مند ہوں اور اپنی حاجات وضروریات کو پورا کرنے کے لیے مطلوبہ رقم اور وسائل سے محروم ہوں ؛ ان کو فقیر اور مسکین کہا جاتا ہے۔
مسکین کی تعریف میں ایک حدیث آتی ہے نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”مسکین وہ گھو منے پھر نے والا نہیں ہے جو ایک ایک یادو دو لقمے یا کھجور کے لیے گھر گھر پھرتا ہے بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال بھی نہ ہو جو اسے بے نیاز کر دے نہ وہ ایسی مسکنت اپنے اوپر طاری رکھے کہ لوگ غریب اور مستحق سمجھ کر اس پر صدقہ کریں اور نہ خود لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرے“۔(صحیح بخاری ومسلم کتاب الزکوٰۃ) حدیث میں گویا اصل مسکین شخص مذکور کو قرار دیا گیا ہے ورنہ حضرت ابن عباس (رضي الله عنه) وغیرہ سے مسکین کی تعریف یہ منقول ہے کہ جو گداگر ہو، گھوم پھر کر اور لوگوں کے پیچھے پڑ کر مانگتا ہو اور فقیر وہ ہے جو نادار ہونے کے باوجود سوال سے بچے اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرے۔ (ابن کثیر)
3-  *وَٱلۡعَـٰمِلِینَ عَلَیۡهَا*
عاملین سے مراد حکومت کے وہ اہلکار جو زکٰوۃ و صدقات کی وصولی و تقسیم اور اس کے حساب کتاب پر معمور ہوں۔
4۔ *وَٱلۡمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمۡ*
1- ایسا کافر جو کچھ اسلام کی طرف مائل ہو اور  امید ہو کہ وہ مسلمان ہو جائے گا۔
2- وہ نو مسلم افراد  جن کو اسلام پر مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے امداد دینے کی ضرورت ہو۔
3- وہ افراد جن کی امداد دینے کی صورت میں یہ امید ہو کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کو مسلمانوں پر حملہ آور ہونے سے روکیں گے
اور اس طرح وہ قریب کے کمزور مسلمانوں کا تحفظ کریں گے
یہ اور اس قسم کی دیگر صورتیں تالیف قلب کی ہیں جن پر زکوۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے چاہے مذکورہ افراد مال دار ہی ہوں۔
5۔ *وَفِی ٱلرِّقَابِ*
گردنیں (غلام) آزاد کرانے میں۔

6۔ *وَٱلۡغَـٰرِمِینَ*
اس سے  مقروض مراد ہیں
1- جو اپنے اہل و عیال کے نان نفقہ اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں لوگوں کے زیر بار ہوگئے اور ان کے پاس نقد رقم بھی نہیں ہے
اور ایسا سامان بھی نہیں ہے جسے بیچ کر وہ قرض ادا کریں سکیں۔
2-  دوسرے وہ ذمہ دار اصحاب ضمانت ہیں جنہوں نے کسی کی ضمانت دی
اور پھر وہ اس کی ادائیگی کے ذمہ دار قرار پاگئے
3- یا کسی فصل تباہ یا کاروبار خسارے کا شکار ہوگیا اور اس بنیاد پر وہ مقروض ہو گیا۔ ان سب افراد کی زکوۃ کی مد سے امداد کرنا جائز ہے۔
7۔ *وَفِی سَبِیلِ ٱللَّهِ* سے مراد جہاد ہے یعنی جنگی سامان و ضروریات اور مجاہد (چا ہے وہ مالدار ہی ہو) پر زکٰوۃ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے۔

8۔ *وَٱبۡنِ ٱلسَّبِیلِۖ* سے مراد مسافرہے۔
یعنی اگر کوئی مسافر، سفر میں مستحق امداد ہوگیا ہے چاہے وہ اپنے گھر یا وطن میں صاحب حیثیت ہی ہو، اس کی امداد زکٰو ۃ کی رقم سے کی جاسکتی ہے۔

✍️
ماخوذ بالاختصار من تفسیر احسن البیان
انتخاب: أبوالحسن خالد الحذيفي

🔖 نوٹ:
بقول شیخ البانی رحمہ اللہ  عقلانی معتزلی بدعقیدہ فرقہ نے ہی اللہ تعالٰی کے اس فرمان ” وَفِی سَبِیلِ ٱللَّهِ ” میں تاویل کرکے تحریف کی بنیاد رکھی ہے !
اور اپنی طرف سے وسعت دے کر  نیکی کے ہر کام میں زکاة كے مال کو حلال قرار دیا ہے۔
✍️
لہٰذا آج کے دور میں نام نہاد اسلامی تحریکوں نے جس طرح اپنے نظریہ دعوت و جہاد کی بدعت کو خوارج سے لیا ہے !
📍 بعینہ اسی طرح اپنی تحریکوں کو چلانے کے لئے اللہ کے مال “زکاة” کو قرآن مجید کی آیت کریمہ کے معنی میں تحریف کرکے اپنے لئے حلال کرنے کا گمراہ کن فتوی بھی معتزلی بدعقیدہ فرقے سے لیا ہے۔

Leave a comment