الشيخ الفقيه محمد بن صالح العثيمين رحمہ ﷲ فرماتے ہیں:
ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم کسی بھی چیز میں غلو کریں یا پھر تفریط کریں، بعض لوگ سنت کو لازم پکڑتے ہوئے تراویح کی رکعات کی تعداد میں غلو کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو سنت سے آیا ہے اس سے زیادہ پڑھنا جائز نہیں اور جو اس سے زیادہ پڑھتا ہے اس پہ انکار کرتے ہوئے شدید رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گنہگار ہے۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بات غلط ہے،
اور وہ کیسے گناہگار ہو سکتا ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا رات کی نماز کے بارے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: «دو دو کر کے پڑھیں» اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی تعداد بھی محدد نہیں کی، حالانکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جس نے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا وہ تعداد بھی نہیں جانتا تھا کیونکہ جو کیفیت (طریقہ) نہیں جانتا ہو وہ تعداد بالاولی نہیں جانتا ہوگا، اور وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمین میں سے بھی نہیں تھا کہ ہم کہیں کہ وہ گھر میں ہونے والے معاملات جانتا ہو۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رات کی نماز کی کیفیت بتائی بغیر کسی تعداد کے معین کرتے ہوئے، تو پتہ چلا کہ تراویح کی رکعات کے معاملے میں وسعت ہے۔
اور دوسری طرف ایسے لوگ ہیں جو اس کے بالکل برعکس 11 رکعات پر اقتصار کرنے والوں پر انتہائی شد و مد سے رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم لوگ اجماع سے نکل گئے ہو، اور یہ آیت پڑھتے ہیں «ومن يشاقق الرسول…» اور کہتے ہیں کہ تم سے پہلے جتنے بھی علماء گزرے سب کے سب نہیں جانتے تھے سوائے 23 رکعات کے (یعنی تم سے پہلے جمہور علماء کو 23 رکعات ہی پتا تھیں)، اور یہ بھی غلط رائے ہی ہے۔
📚الشرح الممتع 4/ 73-75
ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
کہ اگر تراویح امام ابو حنیفہ اور امام شافعی اور امام احمد رحمہم ﷲ کے مذہب کے مطابق 20 رکعات یا امام مالک رحمہ ﷲ کے مذہب کے مطابق 36 رکعات یا پھر 13 رکعات یا 11 رکعات پڑھی جائیں تو یہ سب نیکی ہے جیسا کہ امام احمد رحمہ ﷲ نے نصا فرمایا کہ یہ توقیفی معاملہ نہیں ہے، تو زیادہ رکعات بھی پڑھ سکتے ہیں اور کم بھی، قیام کی طوالت اور تقصیر (چھوٹی رکعات) کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
📚الاختيارات۔
مفتی ابن باز رحمہ ﷲ فرماتے ہیں:
عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے جن صحابہ کرام کو تراویح پڑھانے کا حکم دیا تھا، کہا تھا کہ 11 رکعات پڑھائیں اور اسی طرح صحابہ سے ثابت ہے انہوں نے 23 رکعات بھی پڑھی ہیں عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے حکم سے، یہ بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ اس معاملے میں وسعت پائی جاتی ہے، اور اس معاملے میں صحابہ کے نزدیک بھی وسعت تھی جیسا کہ حدیث میں آتا ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ رات کی نماز دو دو کر کے ہے، (اس حدیث میں رکعت کی تحدید نہیں کی) اور لیکن افضل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے 11 رکعات اور 13 رکعات ہیں۔
📚مجموع فتاوى و رسائل الشيخ عبدالعزيز بن عبدالله بن باز – المجلد الحادي عشر. (جلد نمبر 11).
المترجم: سیف ﷲ عابد

Leave a comment