کسی ایک معین امام یا مذہب کا پابند کرنے کا حکم

لوگوں نے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
اس باب کی اہمیت گرا دی ہے
خاص طور پر متعصب مقلدینِ مذاہب نے 
یہ لوگ خاص معین ( فقہی ) مذہب کی تقلید کو فرض قرار دیتے ہیں
یہ لوگ خاص معین ( فقہی ) مذہب کی تقلید کو فرض قرار دیتے ہیں
بعینہ انہی مذاہب میں سے کسی ایک مذہب کو  حق سمجھتے ہیں
اور فرض سمجھتے ہیں کہ لوگوں پر انہی(مذہبی ) آراء
اور (فقہی) مذاہب میں سے ہی کسی مذہب یا رائے کو نافذ کیا جائے
یہ (نظریہ) نصوص کے مدلول کے خلاف ہے۔
لہٰذا اس باب میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ
ان اقوال میں سے کسی ایک قول کے مطابق لوگوں کو( شرعی ) حکم بتایا جا سکتا ہے
بشرطیکہ
اہل علم کے پاس ان میں سے کسی  ایک قول کی دلائل کی روشنی میں ترجیح موجود نہ ہو اور نہ ہی کوئی اجتہادی تحقیق ۔
رہی بات یہ کہ کسی ایک کی تقلید و پیروی کو فرض قرار دے دیا جائے
یا یہ کہ کسی ( عالم )  پر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ  کسی اور کے قول
کو متعین کرکے اس کے مطابق فتوی دینے کا پابند کر دیا جائے
تو ( ایسا ) ہرگز ( جائز )  نہیں اور نہ ہی( ایسا کسی صاحب علم نے جائز قرار دیا ہے )
جیساکہ شیخ( ابن قیم رحمہ اللہ نے زاد المعاد میں )  فرمایا ہے ۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کو حاکم کا درجہ دینا فرض عین ہے۔
جبکہ اہل علم کے ( تحقیقی) اقوال کی اتباع کرنا ضروری ہے
کیونکہ کتاب وسنت کے معانی فہم علماء کے بغیر اپنی سمجھے جاسکتے ہیں
لہٰذا علمائے کرام کا شرعی وظیفہ یہ ہے کہ
وہ ( کتاب وسنت کی ) نصوص کے درست مفاہیم واضح کریں
  یعنی اس نص سے شارع کی درست مراد کی وضاحت کریں
یہ ہے عالم کا وظیفہ ( حیات )
لہٰذا اپنی ساری کوششوں کو لگا دے اور اپنی عمر کو کھپا دے
حتی کہ اس کے اندر اللہ اور اس کے رسول کے کلام کے فہم میں
اصول و قواعد کیساتھ فقہی صلاحیت پیدا ہوجائے
لہٰذا ( ایک عالم )
لوگوں کو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کے کلام  کا مفہوم بیان کرے
اور یہ (منصب) جسے نصیب ہوجائے اس کیلئے فخر اور عزت کی بات ہے
اور رہا وہ شخص جوکہ
اہل علم کے اقوال میں غور و خوض کرتا ہے اور کتاب و سنت کی فقہ کے بغیر
ان اقوال میں رسوخ پا لیتا ہے تو یہ تو عیب اور نقص ہے
اور اگر اس کے ساتھ ساتھ
دیگر آئمہ کو چھوڑ کر کسی ایک امام کو معین کرکے اس کی تقلید و پیروی
فرض قرار دے تو یہ بغاوت اور حد سے تجاوز ہے اور حرام قول ہے
بلکہ شیخ الإسلام(ابن تیمیہ) رحمہ اللہ کسی جگہ پر فرماتے ہیں کہ جس شخص نے یہ کہا کہ
لوگوں پر فرض ہے کہ وہ چاروں مذاہب میں سے کسی ایک مذہب کو (بطور تقلید شخصی) اختیار کریں
یا مذاہب اربعہ سے باہر کسی ایک(فقہی) مذہب کو دیگر (فقہی) مذاہب سے ہٹ کر (اپنا مسلک بنا لیں)
اور ( وہ شخص یہ کہتا ہے کہ لوگوں کو) تمام مسائل میں کسی ایک معین امام کا پابند کر دیا جائے !
تو ضروری ہے کہ ایسے شخص کو تعزیرات کے تحت سزا دی جائے
اور اسے سبق سکھلانا ضروری ہے۔
کیونکہ اس کی ان باتوں میں تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے بڑھنے (کی جرآت) ہے
پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ
مخلوق میں سے کسی کا بھی ہر ایک قول نہیں لیا جاسکتا ہے
کیونکہ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت تو خود اللہ تعالٰی نے فرض قرار دی ہے
اور جوکچھ بھی
نصوص( کتاب و سنت ) میں آجائے تو اسے قبول کرنا فرض ہے
✍️
ترجمہ۔ ۔ ۔  أبوالحسن خالد محمود الحذيفي

⚫️
علامہ صالح آل الشیخ حفظہ اللہ تعالٰی

Leave a comment