غالی مقلدین کا رد اور اتباع و تقلید کے لحاظ سے لوگوں کی اقسام


*شیخ صالح الفوزان حفظہ اللّٰہ*
*مصدر: اعانة المستفيد بشرح كتاب التوحيد*
*پیشکش:اصحاب السلف*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
تقلید و اتباع کے لحاظ سے لوگوں کی چار اقسام ہیں:

(1)جو اجتہاد مطلق کی طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن وحدیث سے مسائل لے گا اور کتاب و سنت سے مسائل استنباط کرے گا، یہ کسی کی تقلید نہیں کرے گا۔
یہ سب سے اعلیٰ طبقہ ہے،
لیکن یہ صرف اس کے لیے ہے جس میں اجتہاد کی شروط پائی جائیں جو کہ معروف ہیں، کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا عالم ہو، اور وہ عربی زبان کا بھی عالم ہو جس میں قرآن مجید نازل ہوا ہے، اور یہ کہ وہ محکم و متشابہ ، ناسخ و منسوخ، مطلق و مقید اور خاص و عام کا بھی علم رکھتا ہو اور اسے مدارک استنباط کی معرفت بھی ہو، میرا مطلب ہے کہ اس میں قابلیت بھی ہو تو وہ اجتہاد کر سکتا ہے اور اس قسم کے لوگوں میں آئمہ اربعہ: امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللّٰہ اور امام سفیان ثوری اور امام اوزاعی رحمہم اللّٰہ شامل ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اجتہاد کا ملکہ عطا فرمایا تھا۔
(2)دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو اجتہاد مطلق کی طاقت تو نہیں رکھتے، لیکن وہ اہل علم کے اقوال میں ترجیح دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان کے اقوال میں سے کس کا قول دلیل پر قائم ہے اور کس کا قول دلیل پر قائم نہیں ہے، تو جس پر دلیل قائم ہے اس قول کو اختیار کرنا فرض ہے اور اس عمل کو ترجیح اور اجتہاد فی المذھب کہا جاتا ہے۔
(3)تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو ترجیح کی بھی صلاحیت نہیں رکھتے یہ مقلدین میں شمار ہوتے ہیں،
لیکن جب اسے علم ہو جائے کہ فلاں قول کی دلیل نہیں ہے تو پھر اس قول کو چھوڑ دے گا جب تک اسے علم نہیں ہے اور مخالفت ظاہر نہیں ہوئی تو تقلید کرنے میں کوئی حرج نہیں اور وہ قابل اعتماد اہل علم کے اقوال کو اختیار کرے گا۔

(4) چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جو یہ تینوں کام نہیں کر سکتے، نہ تو اجتہاد مطلق کی صلاحیت رکھتے ہیں، نہ ہی ترجیح کی اور نہ ہی مذھب کی تقلید کرنے کی۔ مثلاً: جیسا کہ ایک عامی ہوتا ہے تو اس شخص پر اہل علم سے سوال کرنا فرض ہے جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ فَاسْأَلوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ﴾
(الانبياء:7)
“اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھ لو”۔
تو ایسا شخص ان سے سوال کرے جنہیں زیادہ قابل اعتماد سمجھتا ہے اور جن اہل علم سے مطمئن ہوتا ہے جن کے علم اور عمل پر اسے اعتماد ہے ان کے فتاویٰ اختیار کرے گا۔
تقلید کے معاملے میں لوگوں کی یہ اقسام ہیں۔
انسان پر واجب ہے کہ وہ اپنی حیثیت کو پہچانے اور اپنے نفس کو اس کے مستحق مقام سے اوپر فائز نہ کرے، بلکہ معاملہ تو اس بھی زیادہ خطرناک ہے اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ معاملہ حلال و حرام اور جنت و جہنم کا ہے، تو اپنے نفس کو ایسی مشکل میں مت پھنسائیں جس سے نکلنا آسان نہ ہو اور مجتہد جب اس میں اجتہاد کی شروط پائی جائیں تو اگر  وہ حق کو پا لیتا ہے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے اور اگر وہ خطا کرے تو اس کے لیے ایک اجر ہے کیونکہ وہ حق چاہتا ہے لیکن اپنی کوشش کے باوجود اس تک نہ پہنچ سکا۔
تو وہ حق کی جستجو میں تھا لیکن اس تک پہنچ نہ سکا اس لیے وہ معذور ہے۔
رسول ﷺ  نے فرمایا:
“جب فیصلہ کرنے والا اجتہاد کرتا ہے اور حق کو پا لیتا ہے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے اور اگر اجتہاد کرتا ہے اور خطا کر جاتا ہے تو اس کے لیے ایک اجر ضرور ہے۔”
(متفق علیہ)
اس حقیقت کے باوجود کہ وہ معذور ہے اور اس کی خطا پر اس کے لیے اجر ہے، ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم وہ قول اختیار کریں جسے ہم خطا سمجھتے ہیں، بلکہ ہم پر واجب ہے کہ ہم صحیح قول اختیار کریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ صحیح قول اس مذہب کا ہو جس کی ہم تقلید کر ریے ہیں، یا کسی دوسرے مذہب میں ہو، یہی طریقہ اہل حق کا ہے کہ وہ خطا میں کسی کی تقلید نہیں کرتے، بلکہ وہ قول لیتے ہیں جسے دلیل کی بنیاد پر ترجیح دی گئی ہے اگرچہ اس پر ان کا امام بھی نہ ہو۔
اور اسی لیے -و لله الحمد- اس دعوت کے امام اور اس کتاب (کتاب التوحید) کے مصنف شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللّٰہ اور ان کے شاگرد اور اس ملک کے علماء کرام جو ان کے بعد آئے اسی منہج پر چلتے ہیں۔
اور کہتے ہیں کہ ہم حنابلہ ہیں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم حنبلی مذہب کی ہر بات کو بغیر چھان بین کے لے لیتے ہیں بلکہ جب اقوال میں سے کسی بھی قول پر دلیل قائم ہو جائے تو ہم اسے لے لیتے ہیں،اگرچہ وہ (قول)حنبلی مذہب میں نہ ہو، (بلکہ) دوسرے مذاہب جیسا کہ مالکی، شافعی یا حنفی مذہب میں ہو۔
کیونکہ ہمارا مقصد دلیل ہے۔ جب کوئی قول دلیل کی بنیاد پر اختیار کرتا ہے جو احمد بن حنبل کے (مذہب کے ) مخالف ہے، تو ایسا کرنا حنبلی ہونے میں رکاوٹ نہیں، کیونکہ اس کے امام نے اسی طرف اس کی  رہنمائی کی ہے۔
اور انہوں نے فرمایا ہے: “وہ قول لے لو جو دلیل کی بنیاد پر ہو”۔
خطا میں میرے تقلید مت کرنا”۔”
(بلکہ) سارے آئمہ یہی فرماتے ہیں۔
ان میں سے کسی نے بھی  معصوم ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔
اور نہ ہی کامل ہونے کا دعویٰ کیا۔
اور انہوں نے لوگوں سے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ میرے مذہب کی مخالفت نہیں کرنا، بلکہ وہ سب تو اس (اندھی تقلید) سے ڈراتے رہے ہیں، تو جب آپ دلیل کی بنیاد پر کوئی قول اختیار کرتے ہیں تو آپ اپنے اسی امام کی موافقت کر رہے ہیں جس کی آپ تقلید کرتے ہیں۔
لیکن جب آپ خطا(والے قول کو) لے لیتے ہیں تو آپ (حقیقت میں) اپنے امام کی مخالفت کر رہے ہیں اگرچہ آپ اپنے گمان میں ان کے لیے تعصب کر رہے ہیں، تو یہ ایسا مسئلہ ہے کہ جس کا اہتمام کرنا ہم پر واجب ہے  تبھی تو ہم افراط و تفریط سے بچ سکتے ہیں، تاکہ ہم ان لوگوں میں سے بھی نہ ہو جائیں جو فقہ کا یہ کہہ کر انکار کرتے ہیں کہ یہ تو لوگوں کی آراء ہیں تو انہوں نے اسے ضائع کر دیا۔ وہ نہ تو ان لوگوں میں شامل ہوئے جنہوں نے فقہ سے استفادہ کیا اور نہ ہی وہ ان لوگوں میں سے ہوسکے جو بہترین طریقہ سے استنباط و استدلال کر سکتے ہیں۔
تو انہوں نے خود کو بھی ضائع کر دیا اور اپنے مقلدین کو بھی ضائع کر دیا۔ اور نہ ہی ہم ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو اندھی تقلید کرتے ہیں اور اپنے مذاہب کے لیے تعصب برتتے ہیں۔
اور وہ (اندھا مقلد) کہتا ہے: کہ میں اپنے امام کا قول ہی لوں گا اگرچہ وہ( قول) دلیل کے مخالف ہی کیوں نا ہو، کیونکہ میرا امام دلیل کو زیادہ جانتا ہے، تو یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کی ضد میں ہیں۔
اس میں صحیح راستہ وہی ہے جو وسط میں ہے کہ ہم فقہ کو لیتے ہیں آئمہ کے اقوال بھی قبول کرتے ہیں اور فقہ پڑھتے بھی ہیں کیونکہ اس کا پڑھنا حق کی معرفت کا ذریعہ ہے، لیکن ہم اندھی تقلید نہیں کرتے ایسے اقوال جو دلیل کی بنیاد پر ہیں اور وہ اقوال جو بغیر دلیل کے ہیں ان میں تمیز کرتے ہیں اور جب ہمیں اس کا علم نہ ہو تو پھر اہل علم سے سوال کرنا فرض ہے۔
اس مسئلہ میں یہی حق کا راستہ اور وسطیت ہے کہ موجودہ زمانے میں جس کے متعلق لوگ بغیر ہدایت کے جھگڑ رہے ہیں، مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے :
﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ}
“جو لوگ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں انہیں کوئی فتنہ آپہنچے یا انہیں دردناک عذاب آ پہنچے۔”
(النور:63)
یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا حکم ہے اور دھمکی بھی ہے:
﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ﴾
“جو لوگ رسول اللّٰہ ﷺ  کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے۔”
﴿أَمْرِهِ} میں جو ضمیر ہے وہ رسول اللّٰہ ﷺ  کی طرف لوٹ رہی ہے کہ جن کا ذکر آیت کے شروع میں گزر چکا ہے۔
﴿أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ﴾
  امام احمد رحمہ اللّٰہ نے اس میں﴿فِتْنَةٌ﴾ کی تفسیر دل کے ٹیڑھے ہونے اور شرک سے کی ہے۔
(یعنی رسول کی مخالفت کرنے والے کا دل ٹیڑھا ہو جائے گا یا وہ شرک میں مبتلا ہو جائے گا)
فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا ہے؟
فتنہ سے مراد یہاں شرک ہے۔
ہو سکتا ہے جب وہ ان کے کسی قول کو رد کر دے یعنی رسول اللّٰہ ﷺ  کے کسی قول کو رد کر دے تو اس کا دل ٹیڑھا ہو جائے تو وہ ہلاک ہو جائے۔
تو جس نے رسول اللّٰہ ﷺ  کے قول کو جان بوجھ کر اپنے ہوائے نفس کی  پیروی کرتے ہوئے یا پھر اپنے شیخ جس کی وہ تقلید کرتا ہے، اس کے لیے تعصب کرتے ہوئے رد کر دیا تو اسے دو سزاؤں کی وعید سنائی گئی ہے:
(1) پہلی سزا اس کے دل میں کجی پیدا ہو جائے گی کیونکہ جب اس نے حق چھوڑ دیا تو باطل سے آزمایا گیا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ فَلَمَّا زَاغُوٓا اَزَاغَ اللّـٰهُ قُلُوْبَـهُـمْ ۚ وَاللّـٰهُ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الْفَاسِقِيْنَ ﴾
“پس جب وہ پھر گئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی  ان کے دل پھیر دیئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔”
(الصف:5)
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُورَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُـمْ اِلٰى بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُـمَّ انْصَرَفُوْا ۚ صَرَفَ اللّـٰهُ قُلُوْبَـهُـمْ بِاَنَّـهُـمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ﴾” جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو (منافقین )ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں کہ  تمہیں کوئی (مسلمان)دیکھ تو نہیں رہا پھر چل دیتے ہیں،
اللہ تعالیٰ نے ان کا دل پھیر دیا اس وجہ سے کہ وہ بے سمجھ لوگ ہیں۔”
(التوبة:127)
جب انہوں نے نزول قرآن کے وقت قرآن مجید قبول کرنے اور سیکھنے سے منہ پھیر لیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی سزا کے طور پر ان کے دلوں کو حق سے پھیر دیا۔
اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَنُقَلِّبُ اَفْئِدَتَـهُـمْ وَاَبْصَارَهُـمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُـوْا بِهٓ ٖ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّنَذَرُهُـمْ فِىْ طُغْيَانِـهِـمْ يَعْمَهُوْنَ﴾
” اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نگاہوں کو پھیر دیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے اور ہم ان کی سرکشی میں حیران رہنے دیں گے”۔
(الانعام:110
جب آغاز ہی میں انہوں نے انکار کر دیا تو اسی وقت اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے دلوں اور آنکھوں کو پھیر کر انہیں فتنے میں مبتلا کر دیا،
تو بعد میں بھی وہ حق قبول نہیں کرتے تو یہ شدید خطرے کی بات ہے۔
اس شخص کے مقابلے میں جو حق کو قبول کرتا ہے اور اسی میں رغبت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے ہدایت سے نوازتا ہے اور اس کے علم اور بصیرت میں اضافہ کرتا ہے۔
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ وَإِذَا مَآ أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَٰذِهِۦٓ إِيمَٰنًا ۚ فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ فَزَادَتْهُمْ إِيمَٰنًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ۔
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُواْ وَهُمْ كَٰفِرُونَ﴾
” اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان کو بڑھایا ہے، سو جو لوگ ایمان والے ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو بڑھایا ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں مرض ہے سو ان کے حق میں نجاست پر نجاست ہی بڑھا دی اور وہ مرتے دم تک کافر ہی رہے”۔
(التوبة:124-125)

مومن تو دلیل کی اتباع کرتا ہے اور جب بھی اسے دلیل مل جاتی ہے تو اس پر خوش ہوتا ہے اور حق تو مومن کا گمشدہ سرمایا ہے جہاں بھی اسے ملے وہ لے لیتا ہے۔
جہاں تک تعلق ہے اس شخص کا  جس کے دل میں کجی یا نفاق ہے تو وہ اپنی ہوائے نفس کی پیروی کرتا ہے تو جب دلیل کی پیروی نہیں کرتا (تو سزا کے طور پر) اس کا دل ٹیڑھا کردیا جاتا ہے اور اسے عقیدے، دین اور اخلاق میں انحراف کا شکار کر دیا جاتا ہے اور ان سب چیزوں میں اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ہے۔
(2)دوسری سزا (ارشادِ باری تعالیٰ ہے:)
﴿أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾
“یا انہیں دردناک عذاب آ پہنچے۔”
(النور:63)
دنیا میں قتل کر کے ان کے جسم کو اس طرح سزا دی جائے کہ ان پر  سزا کے لیے مسلمانوں کو یا کفار کو مسلط کر دیا جائے جو انہیں قتل کر دیں اور جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیں۔
﴿ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴾
“یا انہیں دردناک عذاب آ پہنچے”۔
(النور:63)
اگر (طبعی موت) مر گئے اور قتل نہیں کیے گئے تو پھر انہیں جہنم کا عذاب دیا جائے گا۔
   رسول اللّٰہ ﷺ  کے حکم کی مخالفت پر بہت ہی سخت وعید سنائی گئی ہے۔
تو حلال و حرام میں رسول اللّٰہ ﷺ  کے حکم کو چھوڑ دینا اور علماء اور امراء کے ان اقوال کو لے لینا جو جو رسول اللّٰہ کے مخالف ہیں فتنے کا یا پھر دردناک عذاب کا سبب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹیلی گرام چینل:
https://t.me/Ashabussalaf
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*[كل خيرٍ في اتباع مَن سَلَف، وكل شرٍّ في ابتداع مَن خَلَف]*
ہر بھلائی سلف صالحین کے اتباع میں اور ہر گمراہی بعد والے لوگوں کی  بدعات میں ہے۔

Leave a comment