📍کسی دیوبندی اور بریلوی کا اہل حدیث کو غیر مقلد یا لامذہب کہنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کیونکہ
وہ لوگ تقلید شخصی کے مرض میں مبتلا ہیں.
اور اسی بدعت کے داعی ہیں۔
🔖
لہٰذا ان حضرات کے نزدیک تو بڑے بڑے فقہاء اگرچہ وہ اصولی اعتبار سے حنفی و حنبلی ہی کیوں نہ ہو مگر غیر مقلد ٹھہرے !
کیونکہ وہ حضرات حنفی اور حنبلی ہونے کے باوجود تقلید شخصی کا رد کرتے تھے۔
🌧️ جیسا کہ امام ابن ابی العز الحنفی، نواب صديق حسن خان، سید نذیر حسین دہلوی ، مولانا محمد حسین بٹالوی اور امام ابن تیمیہ و ابن القیم اور سعودی عرب کے سلفی علمائے کرام وغیرھم۔
🖊️
فقہی مکتبہ فکر کے اعتبار سے مسلک اہل حدیث عین مسلک آئمہ اہل سنت ہی ہے۔
🔖 جوکہ ظاہریت اور تقلید شخصی کے درمیان ایک راہ اعتدال ہے ۔
📍 جس میں ایک عامی پر واجب ہے کہ
وہ اپنے اردگرد موجود علمائے اہل سنت کی تقلید کرے ۔
🔖
جبکہ ایک طالب علم اور عالم دین کیلئے درست اور راجح منہج یہ ہے کہ
وہ اہل سنت کے کسی بھی مدون فقہی مذہب میں شرعی دلائل کیساتھ مکمل تقفہ حاصل کریں۔
تاکہ اجتہادی مسائل میں ترجیح دینے کی صلاحیت پیدا ہوجائے ۔
اور تقلید کی بجائے منہج اتباع اختیار کر سکے۔
والله أعلم بالصواب.
🖋 Khalid Al-Huzaifi

Leave a comment