فرمان الہی ہے کہ :
【 *وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ أَحَدًا* 】
ترجمہ و توضيح:
– *(وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ)*
اور یہ کہ تمام مساجد ( یعنی سجدہ گاہیں ، عبادت گاہیں اور وہ اعضائے سبعہ جن پر سجدہ کیا جاتا ہے سب کےسب) اللہ تعالٰی ہی کے ہیں ۔
( یعنی نہ تو کوئی جگہ غیر اللہ کی عبادت کے لئے ہے اور نہ ہی جسم کا کوئی عضو غیر اللہ کی عبادت کے لئے ہے )
*- (فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ أَحَدًا)*
لہٰذا اللہ تعالٰی کے ساتھ ساتھ تم کسی ایک کو بھی( مت پکارو اور نہ ہی کسی کی عبادت کرو )
نوٹ #
*فرمان الہی (فَلَا تَدْعُوا) میں مذکور “دعاء” کی دو اقسام ہیں :*
*دعائے مسألة اور دعائے عبادت*
# مذکورہ بالا آیت کریمہ کے متعلق اہل علم رحہم اللہ کا فہم اور استدلال #
🔖
اصول ثلاثہ میں شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ
( تین مسائل میں سے ) دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ
*اللہ تعالی کسی بھی ( ہستی ) کو اپنی عبادت میں شریک کرنے پر راضی نہیں ہے ، نہ ہی کسی مقرب فرشتے کو اور نہ ہی کسی نبی رسول کو*
اور( اس کی دلیل ) اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ:
{ وَأَنَّ ٱلۡمَسَـٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدۡعُوا۟ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدࣰا }
[سُورَةُ الجِنِّ: ١٨]
🔖
علامہ صالح آل الشیخ حفظہ اللہ تعالٰی اصول ثلاثہ کی مذکورہ بالا عبارت کی شرح میں فرماتے ہیں کہ
*اللہ تعالٰی تو صرف توحید ہی چاہتا ہے کہ*
*اس کے علاوہ سب کو چھوڑ کر محض اسی اکیلے ہی کی عبادت کی جائے۔*
*لہٰذا جو شخص بھی اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی اور کو ( عبادت میں ) شریک کرتا ہے*
*تو اس نے حقیقت میں اپنے پیدا ہونے اور وجود میں آنے کی اس غرض و غایت اور حکمت کا ہی الٹ کر دیا ہے جس کا اللہ تعالٰی نے اسے عملی طور پر مکلف بنایا ہے*

Leave a comment