❗موجودہ تنظیموں اور جماعتوں کی شرعی حیثیت محض ایک تفرقہ اور تعصبانہ گروہ بندی ہے جو کہ ایک بدبودار بدعت ہے۔
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی مہاجرین و أنصار کے نام پر گروہ بندی کے خدشے کے وقت فرمایا تھا ” دعوها إنها نتنة ” یعنی اس کو چھوڑ دو یہ تو بدبودار ہے۔
📍باقی رہا دعوت و تبلیغ , اس کام کیلئے صرف اور صرف مسلک کا پلیٹ فارم ہے ۔ کسی تنظیم کا پلیٹ فارم ہرگز مسلک کا پلیٹ فارم نہیں ہے۔
لہٰذا مسلک کے پلیٹ فارم سے ہی سب لوگ اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔
اور مسلک میں علمائے کرام سر کے تاج ہوتے ہیں اور طلباء کرام قوم کا مستقبل ہیں
اور اس طرح تمام مسلمان آپس میں عقیدہ اہل سنت کی بنیاد پر بھائی بھائی ہیں۔
📌 لہذا مسلک کے نام پر گروہ بندیاں اور جماعتیں نہیں بنائیں گے۔ کیونکہ امیر و نائب امیر وغیرہ جیسے عظیم منصب ایک ریاست کے ہوتے ہیں کسی مسلک کے نہیں۔
اور تمام مسالک کے مسلمان اپنے اختلافات کے باوجود اس سرکاری امیر کے ماتحت ہوتے ہیں اور اسی کی اطاعت اور قیادت پر ایمان رکھتے ہیں۔
📚 بہرحال یہ تو ایک شرعی نقطہ نظر ہے۔
● مگر لوگ کیا کر رہے ہیں اور ملک میں کیا افراتفری اور گمراہی جنم لے چکی ہے وہ سب کچھ ہمارے لئے حجت نہیں ہے بلکہ اگر کوئی چیز ہمارے لئے حجت اور دلیل ہے وہ محض شریعت اسلامیہ ہے اور بس ۔
📍مزید یہ کہ
اگر کوئی ہمارا بھائی مسجد و مدرسے اور خدمت کے امور سرانجام دینے کیلئے کوئی ادارہ یا ٹرسٹ کھولتا ہے تو یہ ان کا ذاتی و انفرادی عمل ہے۔
اور مسلک کا ہر شخص بلا کسی تفریق و تعصب کے فی سبیل اللہ خیر کے کاموں میں تعاون کرنے کا مجاز ہے۔
‼️جبکہ آجکل توبہت ساری مسلک کے نام پر تنظیموں نے تو مسلک اہل حدیث کے منہج کو ہی مسخ کر کے رکھ دیا ہے ۔
📍 ایسی صورت میں تو ایسی تنظیموں سے تحذیر کرنا لازمی ہے اور ان کے خلاف قانونی کاروائی کرکے اپنے مسلک کے مدارس و مساجد ان سے آزاد کروانا فرض ہے۔
✒️ خاص طور پر وہ تنظیمیں جنہوں نے اپنا جہادی و سیاسی انقلابی منہج بیرون ممالک کے اہل بدعت سے پرموٹ کیا ہے ۔
جن میں سے چند ایک درج ذیل گروہ قابل ذکر ہیں:
1- تنظیم الإخوان المسلمين
2- تنظیم القا۔عدہ و حما۔س اور دیگر عرب جہا۔دی تنظیمیں
والله أعلم بالصواب.

Leave a comment