اس وقت صحابہ کرام کے متعلق نوجوانوں کا ایک مخصوص طبقہ جو فتنے میں مبتلا ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے رافضیت اور بقول انکے ناصبیت کے درمیان ایک تیسری راہ ڈھونڈ لی ہے.
در اصل یہی وہ راہ ہے جس کی آئمہ اہل سنت نے صحابہ کرام کے متعلق معتزلی نظریات کے نام سے نشاندہی کی ۔
اہل سنت کہتے کہ ” الصحابة كلهم عدول ” یعنی ہر ایک صحابی اپنے قول و فعل میں ثقہ ہے اور دین کا محافظ ہے ۔
لہذا کسی بھی صحابی کی ذاتیات کو کوئی غیر صحابی زیر بحث لا کر تنقید و جرح کرنے کا مجاز نہیں ہے ۔
جبکہ مذکورہ بالا اصول کے مد مقابل باطل فرقہ:
معتزلہ کا بنیادی مسلک ہی اس اصول کو باطل قرار دے کر صحابہ کرام کی ذاتیات کو زیر بحث لانا ہے۔
بہرحال صحابہ کرام و اہل بیت کے متعلق حق و باطل کے راستے واضح ہیں جوکہ درج ذیل ہیں :
1- اہل سنت ( اہل الحدیث و آئمہ مذاہب اربعہ ) اور یہی اہل حق ہیں۔
2- اہل تشیع ( یہ بدعت اس وقت بہت سارے نام نہاد سنیوں میں پائی جاتی ہے اور اس بدعت کی اصل بنیاد اہل بیت اطہار کے متعلق غلو اختیار کرنا ہے)
# نوٹ:
سیدنا علی رضی اللّٰہ عنہ کے دور میں ہی شیعان علی سے ایک گروہ ظاہر ہوا تھا جوکہ سیدنا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما اور دونوں طرف کے صحابہ کرام کی تکفیر کرتا تھا جنہیں اس دور کے خوارج کہا جاتا ہے ۔
3- اہل اعتزال ( یہ بدعت بھی آجکل بہت سارے نام نہاد سنیوں میں ہی پائی جاتی ہے)
4- اہل الرفض ( اثنا عشریہ روافض ؛ اور یہ گروہ بھی درحقیقت عقیدہ کے متعدد ابواب میں بعینہ معتزلی ہیں جن میں سے ایک باب صحابہ کرام کے متعلق ہے )
5- اہل النصب ( یہ بدبخت گروہ بدعت تشیع کے مدمقابل اہل بیت اطہار بالخصوص سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے جفا اور عداوت میں مبتلا ہے۔ اور یہ عناصر بھی نام نہاد سنیوں میں ہی پائے جاتے ہیں)
لہذا ایک سیدھا سادہ مسلمان صحابہ کرام و اہل بیت کے متعلق آسانی سے صحیح اور غلط مسلک میں فرق کر سکتا ہے۔
والله المستعان و عليه التكلان ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم.

Leave a comment