سیاسی مسلک



📍سیاسی امور کو آپ درج ذیل کن اصولوں کے تحت سمجھنا چاہتے ہیں ؟ :
1- اصول اہل سنت
2- اصول خوارج و معتزلہ
3- اصول اہل کفر ؛ سیکولرازم ، ڈیموکریسی۔۔۔وغیرہ
🔖
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکمرانوں کے فتنے کے متعلق فرمایا کہ :
١- ” لايهتدون هداي ” وہ نہ میری ہدایت کو پکڑیں گے
٢- ” ولا يستنّون سنّتي ” ؛ اور نہ ہی وہ میرے طریقہ کار پر چلیں گے
٣- ” فيهم رجال قلوبهم قلوب الشيطان في جثمان الإنس ” ؛ ان میں ایسے لوگ ہونگے جن کے دل انسان کے دھڑ میں شیطان کے دل ہونگے۔
⁉️
سوال یہ ہے کہ جتنے بھی تکفیری خوارج باغی یا حزب اختلاف سیاست دان اسلامی دنیا میں پائے جاتے ہیں کیا مسلمان حکمرانوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان تین جملوں میں بیان کردہ تفصیلات سے زیادہ بھی کچھ دعوٰی کر سکتے ہیں؟!
🖊️
یعنی:
1- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت ، اسلامی تعلیمات، قرآن و حدیث سے ہی دور حکمران
2- چلو اسلامی تعلیمات کا علم نہیں ہے مگر طریقہ کار تو ماحول سے بھی سیکھ لیتا ہے آدمی !
گمراہ حکمرانوں میں تو یہ بات بھی نہیں ہوگی ❗
3- اسلام سے دور ہی صحیح ! مگر انسانیت تو کافر میں بھی ہوتی ہے !
📍 جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حبشہ کے غیر مسلم کافر حکمران کی تعریف کی اور اس کے عدل و انصاف کو بھی سراہا❗
🔖  لیکن گمراہ مسلمان حکمران کے بارے اس حد تک خبر دار کیا ہے کہ
اس کا دل ہی شیطان کا ہوگا صرف دیکھنے میں انسان کا دھڑ ہے ۔
⁉️ یہاں پھر ایک دوسرا سوال ہے کہ
کیا ایک ایسا حکمران جس کا دل خالص شیطان کا دل ہے جس سے ہم انسانیت کی ہی امید نہیں کر سکتے !
کیا ایسے شخص سے اسلام اور جہاد اور عدل و انصاف کی امید لگا سکتے ہیں؟!!
جواب : یقیناً نہیں ہی ہوگا ۔
🌹
تو اب سابقہ سوالات سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ
❗ جب بزبان صادق و مصدوق مسلمان ریاست کے سیاسی حالات اس حد تک بھی بگڑ سکتے ہیں تو
‼️ان حالات میں اسلامی شرعی سیاست کے اصول کیا ہیں ؟
📍جہاں تک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی بات ہے
🖊️ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین جملوں میں ہی صحابہ کرام پر عین اسی وقت واضح کردیا تھا
📍 جب انہوں نے اس قسم کی پشن گوئیاں سنتے ہی اپنی پریشانی کا اظہار کیا تھا:
١- ” تسمع و تطيع ” تم سنتے رہو اور مانتے رہو۔
🔖 مگر اطاعت کا مطلق اصول بھی واضح کر دیا کہ کسی بھی ایسی بات میں جوکہ اللہ کی نافرمانی ہو کسی بھی مخلوق کی اطاعت نہیں ہوگی
یعنی خواہ حکم دینے والا والدین میں سے کوئی ایک ہے یا عورت کا خاوند ہے یا وقت کا امیر المومنین ہی کیوں نہ ہو ۔
🖊️ لہذا حاکم وقت کی گمراہی سے عوام الناس بری الذمہ ہیں۔
2- دوسرا جملہ یہ فرمایا تھا کہ: ” وإن أخذ مالك و ضرب ظهرك ” ؛ اگرچہ وہ تمہارا مال چھین لے اور تمہارے جسم کی پیٹھ پر مارے ۔
🖊️ یعنی حکمران کی جو دیگر گمراہیاں ہیں وہ تو ہیں ہی اس کے علاوہ خاص طور جو گمراہی ہے وہ یہ ہے کہ وہ کرپٹ اور ظالم بھی ہوگا
🔖لہذا یہ ایشو بھی اسلامی شرعی سیاست میں حاکم وقت کے خلاف خروج کرنے اور اسے معزول کرنے کا عذر نہیں بن سکتا ہے۔
❗جبکہ سیدنا عثمان کی شہادت سے لیکر آج کے دور کے سیاسی فتنوں تک کی داستان اور تاریخ یہ ہے کہ
🖊️خوارج  نے ہمیشہ مسلمان حکمران کو نااہل قرار دینے کے لئے
یا تو مالی کرپشن اور ظلم و ستم کو ہی بنیاد بنایا ہے
یا پھر اس کو غاصب کا الزام دے کر اپنا مشن زندہ کیا ہے
یا پھر اس کی گمراہیوں کی وجہ سے اسے کافر و مرتد قرار دے کر قتل و غارت اور فساد کو جہاد کے نام پر فرض قرار دیا ہے۔
‼️
والله المستعان!
3- تیسرا جملہ وہی پہلی بات کو دہرانے کے لئے حکم کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:
” اسمع و أطع ” ؛ یعنی سُن اور مان .
📚
مگر اس دین الہی کے مقابلے میں سیاست کے باب میں باطل ادیان بھی پائے جاتے ہیں
📍جن کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جب حاکم وقت ہمارے نظریات سے اختلاف کر دے تو کم از کم اسے راستے سے ہٹانا عین جہاد ہے اور عین آزادی ہے جوکہ انسانوں کا حق ہے۔
🔖 ان باطل ادیان میں جو سرفہرست نظریات ہیں وہ درج ذیل ہیں:
1- خوارج
2- معتزلہ
3- روافض
4- باطنی فرقے
5- کفار کے بنائے ہوئے من گھڑت ازم ؛ جیسے سیکولرازم  ، سوشل ازم ، ڈیموکریسی وغیرہ وغیرہ
⁉️
اب آپ نے فیصلہ خود کرنا ہے کہ آپ کا دین کیا ہے ۔

والله أعلم بالصواب.

Leave a comment