1- *وہ دعا جس کا پڑھنا واجب (فرض) ہے*
【 نماز جنازہ کی دعا ؛ اور یہ نماز جنازہ کے ارکان میں سےایک رکن ہے ۔
☆ جبکہ نماز کی ہر رکعت میں دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں کم از کم ایک بار” اللهم اغفر لي ” پڑھنا واجب ہے 】
2- *وہ دعا جس کا پڑھنا مستحب ہے*
نماز میں سلام پھیرنے سے پہلے پڑھی جانے والی دعائیں جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں گذر چکا ہے۔
3- *ایسی دعا جوکہ جائز اور مباح ہے*
یعنی ایک انسان دوسرے زندہ اور موقع پر موجود انسان کو ایک ایسے جائز معاملے میں بلائے اور مدد طلب کرے جس میں وہ انسان قادر ہے
4- *ایسی دعا جوکہ مکروہ ہے*
【 یہ قسم بھی بالکل سابقہ قسم کی طرح ہی ہے مگر یہاں پر فرق صرف اتنا ہے کہ سائل کسی مکروہ معاملے میں مدد مانگتا ہے】
یعنی ایک انسان دوسرے زندہ اور موقع پر موجود انسان کو ایک ایسے معاملے میں بلائے اور مدد طلب کرے جوکہ بعینہ مکروہ معاملہ ہو اگرچہ وہ دوسرا انسان جس سے مدد مانگی جائے اس مکروہ عمل پر قادر ہی کیوں نہ ہو ۔
5- *وہ دعا جوکہ حرام ہے* :-
حرام دعا کی اقسام ہیں:
– *شرک اکبر*
*اور شرک اکبر یہ ہے کہ
“غیر اللہ کو اللہ تعالٰی کے ساتھ اس کے خصائص میں برابر مقام پر لاکھڑا کر دیا جائے*
🔖
*جبکہ دعا میں شرک اکبر کی تین صورتیں ہیں:*
1- پہلی صورت کا تعلق طریقہ دعا سے ہے کہ
بندہ غیراللہ سے کچھ بھی مانگتے وقت کمال ذلّ اور کمال محبت ( یعنی عاجزی و عقیدت اور محبت کی انتہا ) کو پہنچ جائے۔ جبکہ یہ مقام اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے۔
لہٰذا مثال کے طور پر اگر آپ کسی سے قلم مانگتے وقت کمال ذلّ و کمال محبت کے مقام کو پہنچ جاتے ہیں تو آپ شرک اکبر میں ملوث ہو چکے ہیں !
کیونکہ کسی کیلئے کمال ذل و کمال محبت یعنی عاجزی و انکساری اور عقیدت میں انتہاء کو پہنچنا اللہ سبحانہ و تعالٰی کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں ہے یہ محض اللہ جل شانہ کا حق ہے ۔
🔗
2- دعا میں شرک اکبر کی دوسری صورت یہ ہے کہ
بندہ اللہ کے علاوہ کسی بھی (فوت شدہ یا زندہ) ہستی کو کسی ایسے معاملے یا چیز میں مدد کیلئے پکارے اور دعا کرے جس میں سوائے اللہ تعالٰی کے کوئی بھی قادر نہیں ہے بلکہ وہ اللہ وحدہ لاشریک اس چیز پر قادر ہے جیسے جنت میں داخلہ یا جہنم سے چھٹکارا یہ دونوں چیزیں اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہیں جن میں اللہ تعالٰی کے علاوہ کسی بھی ہستی کا کوئی اختیار و قدرت نہیں ہے ۔
لہٰذا اس قسم کی دعائیں اور نعرے سب شرک اکبر میں آتے ہیں
☆اور شرک اکبر سے مراد ایسا شرک جوکہ بندے کو اسلام سے خارج کر دے ۔ والعیاذ باللہ !
🔗
3- دعا میں شرک اکبر کی تیسری صورت یہ ہے کہ
مخلوق میں سے کسی ایسے فرد کو پکارنا یا اس سے کچھ مانگنا جبکہ وہ مخلوق وہاں پر موجود نہیں ہے یعنی یا تو وہ فوت ہو چکا ہے یا پھر زندہ تو ہے مگر دور دراز کسی اور علاقے میں موجود ہے
✒️
تو یہاں پر دو باتوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے:
– پہلی بات یہ کہ بغیر مادی وسائل کے وسیع پیمانے پر دور دراز مسافت کے باوجود سننے کی طاقت صرف اللہ تعالٰی کے ساتھ ہی خاص ہے اور اس خاصیت میں وہ وحدہ لاشریک ہے
– دوسری بات یہ ہے کہ
علم غیب یعنی موقع پر غیر موجود و غیر حاضر اشیاء کا علم بھی اللہ سبحانہ و تعالٰی کے خصائص میں سے ہے جس میں وہ اکیلا وحدہ لاشریک ہے۔
🔖
لہٰذا دعا کی یہ تیسری صورت بھی شرک اکبر ہے کہ
بندہ موقع پر غیر موجود کسی ایسی مخلوق سے کوئی چیز مانگے جوکہ اگرچہ انسان کے دائرہ اختیار میں ہوتی ہے مگر وہ ہستی یا بزرگ وغیرہ انسان یا تو فوت ہو چکا ہے اور وہ بالفرض اس کی عرض سن بھی لے تو اس کے باوجود اس کی مراد پوری کرنے سے قاصر ہے
یا پھر زندہ تو ہے مگر کسی ایسے دور دراز مقام پر ہے جہاں سے رابطہ منقطع ہے ۔
مگر سائل مانگنے پر اس لئے مُصِرّ ہے کہ اس کے نزدیک یا تو وہ اس کی پکار براہ راست سن رہا ہے یا پھر اسے علم غیب ہے ، حتی کہ مرنے کے بعد بھی وہ اس پر قادر ہے۔
والعیاذ باللہ!!!
– *ایسی دعا جوکہ شرک اصغر ہے*
اور وہ یہ کہ بندہ کسی وہمی غیر شرعی سبب کو دعا میں شامل کر لے جیسا کہ کسی بزرگ ہستی کا واسطہ دے کر اللہ تعالٰی سے کچھ مانگنا۔
🔗
اسی طرح کسی غیر شرعی سبب کو جائز سمجھتے ہوئے اختیار کرنا اور اس کے ذریعے اللہ تعالٰی سے قبولیت کی امید لگا لینا جیسے کڑے چھلّے دھاگے اور تعویذ وغیرہ پہن کر شفاء کی امید رکھنا وغیرہ ۔
– *وہ دعاء جوکہ بدعت ہے*
فرض نمازوں ، نماز جنازہ ، وعظ و نصیحت اور دروس اور جمعہ و عیدین کے خطبات اور میت کو دفنانے کے بعد قبر پر کھڑے ہو کر اجتماعی دعائیں کرنا ۔
تعزیت کے لئے جمع ہو کر اجتماعی دعائیں کرنا ۔
– *وہ دعائیں جوکہ محض حرام و گناہ ہیں*
یعنی کسی حرام کام کیلئے دعا کرنا ۔
واللہ أعلم بالصواب
✍️
كتبه/ أبوالحسن خالد محمود الحذيفي
مستعيناً بكلام الشيخ الدكتور عبدالعزيز الريس حفظه الله تعالى و رعاه مع توضيحات يسيرة و تصرفات قليلة.


Leave a comment