*تمذہب على سبيل الوجوب (تقلید شخصی) اور تمذہب على سبيل الجواز میں فرق*
تقلید و تمذہب کے مسئلے میں جو بات مد نظر رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ
ولایتی و دیسی مقلدین کے ساتھ ہمارا اختلاف مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک مذہب کو اختیار کرنے یا نہ کرنے میں نہیں ہے
بلکہ ہمارا اختلاف اس بات پر ہے کہ
📍 مقلدین کے نزدیک تقلید شخصی کو تمذہب کہتے ہیں
( یعنی تمذہب علی سبیل الوجوب )
– اور یہ شاذ موقف ہونے کی وجہ سے مردود ہے .
– اور اس موقف کو اہل بدعت نے ہی رائج کیا ہے
– تاکہ مذاہب اربعہ کو ڈھال بنا کر سلفی منہج سے لوگوں کو روکا جاسکے۔
🔖
لہٰذا ہم تمذہب اور تقلید شخصی میں فرق کرتے ہیں۔
اور ہمارا منہج تمذہب یعنی
( تمذہب علی سبیل الجواز ) ہے۔
– اور یہی فقہاء اہل سنت کا منہج ہے
– جس کا مطلب کہ فقہ کے مسائل کو دلائل کی روشنی میں اخذ کرنا ہے۔
– اور چاروں فقہی مذاہب کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ حق ان مذاہب میں محصور نہیں ہے ۔
– بلکہ حق کتاب و سنت کے علوم کی گہرائیوں اور صحابہ و تابعین و تبع تابعین اور آئمہ اہل سنت فقہاء و محدثین کے فہم و تفقہ کی وسعتوں کا ترجمان سلفی منہج ہے۔
📌
بہرحال مقلدینِ مذاہب ؛ خاص طور پر یہ ولایتی حنبلی و حنفی مقلدین لوگ تمذہب سے متعلق ہمارے سلفی مشائخ کے اقوال کو تقلید شخصی پر محمول کر کے خود اپنے اپ کو اور اپنے مقلدین کو دھوکہ دے رہے ہیں
📝 جبکہ ہمارے سلفی مشائخ کا موقف اس بارے میں واضح ہے کہ
وہ حضرات تمذہب کو اتباع کے معنی میں لیتے ہیں
یعنی کسی بھی فقہی مذہب کو اختیار کرنا جائز ہے
✒️ بشرطیکہ یہ عقیدہ ہو کہ
جب بھی کسی مسئلے میں یہ معلوم ہو گیا کہ راجح کوئی اور قول ہے
یا دلیل کچھ اور ہے
تو فقہ کے اس مسئلے میں خروج واجب ہے۔
🔗
اور یہی مطلب اس بات کا ہے کہ :
” *اہل بلد کا مذہب اختیار کیا جائے* “
یعنی اپنے ملک میں نافذ فقہی مذہب کو علی سبیل الجواز اختیار کرنا چاہئے
– جس کا اہم مقصد یہ ہے کہ مروجہ فقہ کو قرآن حدیث اور سلفی اصولوں کی روشنی میں پرکھ کر پیش کیا جائے
– تاکہ اہل بدعت کو ان کی حد میں رکھ کر بے نقاب کیا جاسکے
– جوکہ کسی بھی سنّی فقہ کو ڈھال بنا کر اپنے بدعتی مسلک صوفیت و ماتریدیت یا معتزلیت و جہمیت کی ترویج چاہتے ہیں
– کیونکہ تمذہب علی سبیل الوجوب شاذ مردود قول ہے
و اللہ اعلم بالصواب
كتبه/ أبو الحسن خالد محمود الحذيفي


Leave a comment