تقلید شخصی حرام ہے


🔗
یعنی کسی بھی ایک فقہی مذہب  یا کسی بھی عالم دین کو اس طرح خاص کرلینا کہ یہی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے بس اس کے بعد اب کسی بھی مسئلے میں کسی قسم کے اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔
🔖
اس قسم کے جمود اور تقلید کا مسلک اہل سنت کے کسی بھی فقہی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے !
بلکہ یہ بدعت متاخرین متکلمین حضرات کی ایجاد کردہ ہے۔
📍مگر
جس تقلید کے وجوب کی ہم بات کرتے ہیں وہ *تقلید مطلق* ہے۔
🔗
یعنی مدون فقہی مذاہب میں سے کسی بھی ایک مذہب کو اختیار کرتے وقت یہ نظریہ ہو کہ ہر عالم دین کا فتوی اور فقہ کا ہر مسئلہ قابل اتباع بھی ہے اور قابل ردّ بھی ہے۔
📍 مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر بات ہرحال میں حرف آخر ہے۔
لہٰذا کسی بھی وقت اگر میرے علم میں یہ بات آئی کہ میری فقہ یا إمام کا فلاں مسئلہ دلیل کے اعتبار سے ضعیف ہے تو میں اسی وقت اس مسئلے کو چھوڑنے کا پابند ہوں گا۔
📍اور یہی طریقہ آئمہ اربعہ اور ان کے أصحاب فقہاء اہل سنت کا ہے ۔
🔖
لہٰذا
ایک عامی شخص کیلئے واجب ہے کہ وہ
علمائے کرام میں سے کسی بھی عالم سے  بغیر کسی شخصیت پرستی کے مسئلہ پوچھیں اور دلیل کی بحث میں پڑے بغیر اس پر عمل کریں۔
🔗  مگر جب بھی کسی معتمد ذرائع سے معلوم ہوجائے کہ اس مسئلے میں دلیل کچھ اور ہے تو فورا رجوع کرلیں۔

والله أعلم بالصواب.

🖋 Khalid Al-Huzaifi

Leave a comment