*بہت سارے چندہ خوروں نے قرآن مجید میں مذکور مصارف زکاة سے متعلق “معتزلی تفسیر” کو اختیار کر رکھا ہے*
جسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے بے نقاب کیا ہے۔
قولہ تعالٰی: ” { ۞ إِنَّمَا ٱلصَّدَقَـٰتُ لِلۡفُقَرَاۤءِ وَٱلۡمَسَـٰكِینِ . . . وَفِی سَبِیلِ ٱللَّهِ . . . }
[سُورَةُ التَّوۡبَةِ: ٦٠]
مذکورہ بالا آیت کریمہ میں اللہ تعالٰی نے زكاة كے مصارف میں ایک مصرف ” فی سبیل اللہ ” ذکر کیا ہے ۔
جس کا مطلب اہل سنت فقہاء و مفسرین کے نزدیک یہ ہےکہ :
” *اسلام کے دشمن کفار سے حالت جنگ کے وقت مسلمان سپاہیوں کو جنگی ساز و سامان اور دیگر تیاری کے لئے زكاة کا مال دیا جاسکتا ہے* “
الغرض آیت کریمہ میں زکاة كے حقدار مذکور آٹھ قسم کی شخصیات میں سے ایک قسم حالت جنگ میں موجود جنگجو سپاہی ہیں۔
اور اہل سنت فقہاء و مفسرین کے نزدیک آیت کریمہ کے آغاز میں موجود لفظ ” إنما ” حصر کیلئے ہے۔
【 جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے زكاة کے جو آٹھ مصارف بیان کر دیئے ہیں ان میں تاویل و تحریف کرکے توسیع کرنے کی گنجائش نہیں ہے】
مگر
بدعقیدہ عقلانی معتزلی فرقہ نے ہی اللہ تعالٰی کے اس فرمان ” وَفِی سَبِیلِ ٱللَّهِ ” میں تاویل کرکے تحریف کی بنیاد رکھی ہے !
اور اپنی طرف سے وسعت دے کر نیکی کے ہر کام میں زکاة كے مال کو حلال قرار دیا ہے۔
لہٰذا آج کے دور میں نام نہاد اسلامی تحریکوں نے جس طرح اپنے نظریہ دعوت و جہاد کی بدعت کو خوارج سے لیا ہے !
📍 بعینہ اسی طرح اپنی تحریکوں کو چلانے کے لئے اللہ کے مال “زکاة” کو قرآن مجید کی آیت کریمہ کے معنی میں تحریف کرکے اپنے لئے حلال کرنے کا گمراہ کن فتوی معتزلی بدعقیدہ فرقے سے لیا ہے۔
الله المستعان وعليه التكلان ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم

Leave a comment