اختلافی مسائل میں طریقہ تحقیق

*کسی بھی مسئلے میں تحقیق کا یہ تقاضا ہے کہ*
پہلے ہم یہ جان لیں کہ اس مسئلے میں سابقہ اہل علم و آئمہ دین کیا رائے اور موقف رکھتے ہیں
🖊️  اور پھر کسی جگہ پر اختلاف کی صورت میں اہل علم کے ٹوٹل کتنے اقوال ہیں۔
🔗 مگر
میرا تجربہ ہے کہ
دور حاضر میں ہمارے نوجوان طلباء کرام و فاضلین درس نظامی اور مناظر حضرات کی یہ روش بن چکی ہے کہ
وہ لوگ بعض اجتہادی مسائل کو اپنا امتیازی مسلک سمجھ بیٹھے ہیں
اور اس کے بعد وہ اتنی زحمت بھی گورا نہیں کرتے ہیں  کہ
ان مسائل میں سلف کی کتب بھی کھول کر دیکھ لیں۔
🔗 اور جان لیں کہ یہ مسائل اکابرین کے نزدیک کس حد تک وسعت کے حامل تھے۔
🔗 اور ان مسائل میں ان کے نزدیک کیا موقف ہوا کرتا تھا ۔

اور ان مسائل میں مخالف آراء میں سے کون کون سی ایسی آراء ہیں جنہیں اکابرین امت نے بالاتفاق رد کیا ہے۔
اور کون کون سی ایسی آراء ہیں جن کا رد ہم نے اپنا مسلک بنا لیا ہے جبکہ اکابرین امت ان آراء کو قبول کرتے تھے۔

مثال کے طور پر  تقلید کا مسئلہ ہی لے لیں
اس مسئلے میں اکابرین علمائے اہل حدیث کا رد کرنے کا طریقہ ایک سلفی طریقہ تھا
جبکہ آجکل ہمارے بیچ  ایسے عناصر موجود ہیں جوکہ
ردّ تقلید کو ایسے پیش کر رہے ہیں جیسا کہ معتزلہ کا طریقہ کار تھا !
یا پھر ایسا موقف جوکہ کم از کم اہل ظاہر کا شاذ مردود موقف تھا۔
والله أعلم بالصواب.

🖋 Khalid Al-Huzaifi

Leave a comment